
Koi Ummeed Bar Nahin Aati
شاعر: مرزا غالب غزل کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی آگے

شاعر: مرزا غالب غزل کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی آگے

شاعر: مرزا غالب دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا الٰہی یہ

شاعر: مرزا غالب مدت ہوئی ہے یار کو مہماں کیے ہوئےجوش قدح سے بزم چراغاں کیے ہوئے کرتا ہوں جمع پھر جگر لخت لخت کوعرصہ

شاعر: مرزا غالب یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا ترے وعدے پر جیے ہم تو

شاعر: مرزا غالب نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا