Zindagi ki Talkhi Sy Behtar Mout Ki Lazzat

زندگی کی تلخی سے بہتر تو موت کی لذت ہے!:

روح نے پرواز سے ذرا پہلے اپنے کمسن بیٹے کو دیکھا جس نے ابھی ٹھیک سے چلنا بھی نا سیکھا تھا، ایک نظر اپنی بیوی پر ڈالی جس نے خوف سے آنکھیں بند کرلی تھیں اور اُس کے سارے رشتے دار اس موقعہ پر ہسپتال کے اس کمرے میں موجود تھے جہاں وہ بستر مرگ پہ پڑا تھا اور سب کے چہروں پر مردنی چھائی ہوئی تھی۔

خالہ آیتہ الاکرسی کا ورد کر رہی تھیں تاکہ جان نکلنے میں آسانی ہو، سب اُس کی حالت پر دُکھی تھے، چند لمحوں کا سفر باقی تھا اور بس پھر اِس جہاں سے اُس جہاں، زندگی بھر کی تھکن اُترنے والی تھی۔ اُس نے دل میں سوچا، گھڑی کی سوئی کی ٹک ٹک فاصلہ گھٹا رہی تھی، وہ اپنی آنجہانی ماں کو صاف دیکھ رہا تھا جو اُس کا دوسرے جہاں انتظار کر رہی تھی۔ اُس نے محسوس کیا کہ سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی، وہ سمجھ گیا کہ ابھی چند لمحوں کا کھیل باقی ہے اور پھر وہ آزاد، دنیا کی تمام تکلیفوں سے آزاد، اُس پرسکون فضا میں جہاں موت کا کوئی خوف نا ہوگا، بس کسی طرح یہ لمحہ جلدی سے آکر گزر جائے، مگر اس کو اپنے بیوی بچوں کی فکر تھی کہ ان کا کیا بنے گا؟ اور وہ رشتے دار، دوست، اسکے چاہنے والے کس قدر غمزدہ تھے۔ چچا غفور کس قدر سہمے ہوئے تھے، اُس کا بہترین دوست کس قدر پریشان دکھائی دے رہا تھا، اُس نے آنکھیں بند کرلیں، ڈاکٹر نے نبض پر ہاتھ رکھا جو آہستہ آہستہ مدہم ہوتی چلی جا رہی تھی، مگر موت کا فرشتہ نظر نہیں آرہا تھا، اس نے کتابوں میں پڑھا تھا کہ مرنے سے ذرا پہلے فرشتہ نظر آنے لگتا ہے، شاید ابھی آتا ہی ہوگا کسی اور کی جان قبض کر کے۔

اس نے دل میں سوچا، چند لمحے اور گزر گئے مگر کچھ نا ہوا، پھر معجزہ ہوا، اور اس کی طبیعت اچانک بہتر ہونا شروع ہوگئی، نبض بھی ٹھیک چلنے لگی اور ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی، چند دن بعد وہ بلکل ٹھیک ہوگیا، سب اس معجزے پر حیران تھے کہ یہ سب اچانک کیسے ہوگیا؟ موت کا مریض ایک دم کیسے چلنے پھرنے لگ گیا، اسے نئی زندگی مل گئی، چند دنوں تک اسے نئی زندگی کی مبارکبادیں ملتی رہیں، پھر سب آہستہ آہستہ اپنی زندگی میں مصروف ہونے لگے۔
یہاں سے اس کی دوسری زندگی کا آغاز ہوا۔ اس نے بھی دوبارہ کام پر جانے کا فیصلہ کیا، وہ دفتر پہنچا تو اسے پتہ چلا کہ اس کی بیماری کے دوران اس کی جگہ کسی اور کو اس کی سیٹ مل گئی تھی، دفتر کے دوست اسے نئی زندگی کی مبارکباد تو دے رہے تھے مگر نوکری جا چکی تھی، اگلے چند دن وہ جاب کے لیے دفتروں کے دھکے کھاتا رہا مگر بے سود اتنی جلدی نئی نوکری ملنا مشکل تھا، لوگ اس کے ساتھ ہمدردی تو کرسکتے تھے مگر نوکری نہیں دے سکتے تھے۔

ایک ہفتے بعد اسے کچھ رقم کی ضرورت پڑی وہ چچا غفور کے پاس پہنچا جن کی کپڑے کی دکان تھی اور جب وہ بستر مرگ پر تھا تو چچا غفور نے اس کے مرنے کے بعد اسکے بیوی بچوں کی ذمہ داری اٹھانے کا اعلان کیا تھا۔ چچا نے اُسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور فرمایا ’’دیکھو بیٹا ابھی تو کاروبار مندہ چل رہا ہے اور تمھارے ہسپتال کے اخراجات بھی کافی حد تک میں نے برداشت کیے تھے، ابھی تو بہت مشکل ہے‘‘۔ وہ اُن کے جھوٹ پر حیران رہ گیا، انھوں نے پچھلے ہفتے نئی گاڑی خریدی تھی اور کاروبار بہت اچھا چل رہا تھا اور ہسپتال کے اخراجات میں ان کا حصہ دو ہزار روپے تھا۔

پھر وہ اپنے بہترین دوست کے پاس پہنچا۔ دوست نے گرم جوشی سے اُسے گلے لگا لیا اور اُسے دیکھ کر خوشی سے پاگل ہوگیا۔ دونوں نے سارا دن ساتھ گزارا، کھانا کھایا، کرکٹ کھیلی، پھر رات کے کھانے کے بعد جب چائے کا آدھا آدھا کپ پی چکے تو اُس نے دوست کو اپنی ضرورت بتائی اور کچھ رقم مانگی تو فوراً اُس نے جیب سے ہزار کا نوٹ نکال کر مجھے دیا اور شرمندہ ہو کر کہا کہ یار ابھی تو اتنے ہی ہیں کل اور دے دوں گا فکر نا کر یار میں ہوں نا۔

وہ مطمئن ہوگیا، کل دوبارہ جب اس کے گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ وہ شہر سے باہر گیا ہوا ہے، اُسے رقم کی اشد ضرورت تھی، مگر کچھ بن نہیں پا رہا تھا، وہ تھکا ہارا گھر پہنچا، بیگم سے چائے کی درخواست کی، جب پی چکا تو اسے بتایا کہ روپوں کا بندوبست نہیں ہو پا رہا ہے اور بینک میں بھی کچھ نہیں ہے، جو تھا ہسپتال کے اخراجات پر خرچ ہوگیا، نوکری بھی گئی، مکان کا کرایا نہیں دے پائیں گے اور یہ گھر چھوڑنا پڑے گا اور کسی چھوٹے مکان میں شفٹ ہونا پڑے گا اور شاید تمہاے زیور کی بھی ضرورت پڑے۔ یہ بات سن کر وہ خاموش سی ہوگئی۔ اُس نے بیوی کو حوصلہ دیا کہ سب ٹھیک ہوجائے گا ہم مل کر اس مشکل وقت کا سامنا کریں گے۔ اگلے دن جب میں گھر واپس آیا تو پتہ چلا کہ میری بیوی ہمارے بیٹے کو ساتھ لے کر اپنے میکے چلی گئی تھی کیوں کہ اس کی والدہ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی تھی۔

وہ ساری بات سمجھ چکا تھا کہ یہ سب اُس کی وجہ سے ہو رہا تھا، کیوںکہ وہ غلطی سے زندہ رہ گیا تھا۔ اُس کے دل سے ایک آہ نکلی اور وہ فرش پر ڈھیر ہوگیا۔ اُس نے محسوس کیا کہ وہ اچانک پسینے میں شرابور ہو چکا تھا، اُس کی سانس بند ہو رہیں تھی اور سامنے ایک شخص چلا آرہا تھا جس کے ہاتھ میں عصا تھا جس نے اپنے چہرے کو ڈھانپا ہوا تھا، اس کے گرد روشنی کا ایک ہالہ سا تھا، وہ پہچان گیا یہ وہی تو تھا جس کا انتظار وہ بستر مرگ پر کر رہا تھا ’’تم کہاں رہ گئے تھے؟ اے کاش تم اس دن آجاتے تو مجھے دنیا کی یہ تلخ حقیقت نا دیکھنا پڑتی؟ اب مزید دیر نا لگاؤ‘‘ اور پھر میں نے موت کی لذت محسوس کی جس کا ذائقہ دنیا کی تلخی سے کہیں میٹھا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں