“Woh Mera Hai” is a masterpiece novel written by Nimra Ahmad. This novel is pure romance and humor at the same time. The quality of this story is that it does not have any philosophy, any hidden thing i.e. suspense, any heart-wrenching incident, any pain-relieving story, or a sea of emotions and feelings, but it is a kind of interesting and funny. It is a funny story that revolves around two cousins.
It is mine that a careful study of the story reveals that one of the two cousins considered the other as inferior, unfamiliar, stereotyped, and selfish, while the other came to know very well that she was mine. What do you think about it? So she decided to teach him a lesson and decided to prove to him that she is not a possessor of old ideas but a fashionable and modern girl living in modern times. Only 51 pages were compiled on this topic in this novel. And one more thing is important to note that this story is not such that it can be called a novel, but it is better and more careful to call it a novelette.
Nimra Ahmed’s pen always tries to write something new and talks outside the mentioned traditions. One of the other qualities of his stories is that most of his stories contain confusions that are never resolved, but as soon as the journey of your words ends, those confusions? It slowly fades away. Nimra Ahmed’s novel “Woh Mera Hai” is included in the list of urban novels of Pakistan.

“وہ میرا ہے” نمرہ احمد کا لکھا ہوا ایک شہکار ناول ہے۔ یہ ناول بیک وقت خالص رومانوی اور طنز و مزاح ہر مشتمل ہے۔ اس کہانی کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کوئی فلسفہ، کوئی پوشیدہ بات یعنی سسپنس، کوئی دل دہلا دینے والا واقعہ، کوئی دردو الم کی چھلنی کرنے والی بات یا جذبات و احساسات کا سمندر موجیں نہیں مارتا بلکہ یہ ایک طرح کی دلچسپ اور مضحکہ خیز کہانی ہے جو دو چچا زاد بہنوں کے درمیان گھومتی ہے۔
وہ میرا ہے کہ کہانی کا بغور مطالعہ کیا جائے تو دونوں چچا زاد بہنوں میں سے ایک دوسرے کو اپنے سے کم تر، غیر مانوس، دقیانوسی خیالات کی مالک اور خود غرض سمجھا، جبکہ دوسری کو اس بات کا خوب علم ہو گیا کہ وہ میرے بارے میں کیا سوچتی ہے۔ تو اس نے اسے سبق سیکھانے کی ٹھانی اور فیصلہ کیا کہ وہ اسے یہ ثابت کرے گی کہ وہ پرانے خیالات کی مالک نہیں ہے بلکہ وہ جدید دور میں رہنے والی ایک فیشن پرست اور ماڈرن لڑکی ہے۔ بس اس ناول میں اسی بات پر 51 صفحات مرتب کر دیئے گئے۔ اور ایک بات اور دیکھنا ضروری ہے کہ یہ کہانی ایسی نہیں ہے کہ اسے ناول کہا جائے بلکہ اسے ناولٹ کہنا زیادہ بہتر اور محتاط ہے۔
نمرہ احمد کا قلم ہمیشہ کچھ نئے سے نیا لکھنے کی کوشش میں رہتا ہے اور موصوفہ روایات سے ہٹ کر کہانی مرتب کرتی ہیں۔ ان کی کہانیوں کی دیگر خوبیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کی اکثر کہانیوں میں الجھنیں ہوتی ہیں جنہیں پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ کبھی سلجھ نہیں سکیں گی مگر جیسے جیسے آپ کہانی کے اختتام کی طرف سفر کرتے جاتے ہیں تو وہ الجھنیں آہستہ آہستہ سلجھتی چلی جاتی ہیں۔ نمرہ احمد کا یہ ناول “وہ میرا ہے” پاکستان کے شہکار ناولوں کی فہرست میں شامل ہے۔

This Book is available at linkshop

For Free PDF Download Click 

Share this with your friends