Shaitan Aik Sacha Dost

شیطان، ایک سچا دوست؟:

میں نے حیرانگی سے مڑ کر پیچھے دیکھا، یہ دوسری بار ہوا تھا کہ مجھے زناٹے دار تھپڑ پڑا مگر مارنے والے کا دور دور تک نشان نہ تھا، شاید میرا وہم تھا۔ میں نے گردن کو سہلایا اور غصّے سے چلایا کون ہے؟ سامنے آؤ، ڈرتے ہو کیا؟ ایک دھویں کا مرغولا اڑتا ہوا میرے سامنے انسان کے روپ میں اۤکھڑا ہوا اور بولا ’’لو میاں اب پہچانو تو جانے‘‘۔

پہلے تو ہم ذرا ڈر سے گئے کہیں یہ اس بڑے میاں کا بھوت نا ہو جن کا ہم نے اُدھار دینا تھا مگر پھر ہمت کی اور پوچھا، آپ کون ہیں؟ اور کہاں سے تشریف لائے ہیں؟

اس نے ایک واشگاف قہقہہ فضا میں بلند کیا اور دوستانہ لہجے میں مسکراتے ہوئے کہا، ارے میں تمھارا سب سے اچھا دوست، کچھ لوگ مجھے شیطان بھی کہتے ہیں۔
لاحولا ولاقوتہ، تم اور میرے دوست؟ تم ہوش میں تو ہو؟ جاؤ کسی اور کو جاکر ورغلاؤ! تم تو میرے اذلی دشمن ہو، پہلے ہمیں جنت سے نکلوا دیا، اب ہمیں بھٹکاتے پھرتے ہو، ہم بہت نیک ہیں، ہم نا آویں گے تمھارے چنگل میں، ہم ابھی ابھی حج کرکے آئے ہیں، ایک پھونک ماریں گے تمھارا نشان نہیں ملے گا، میں نے گردن اکڑا کر کہا۔

اس نے ایک بھرپور قہقہہ مارا اور اپنی ہنسی کو بمشکل روکتے ہوئے بولا، ارے کون سا حج بھئی؟ وہ حج تھا یا تم تصویریں کھینچنے گئے تھے؟ اور یہ تو بتاو کہ کیمرہ ساتھ لیجانے کا مشورہ کس نے دیا تھا؟ وہ ہم ہی تو تھے جس نے تمھیں سمجھایا تھا کہ پس منظر میں خانہ کعبہ، مقام عرفات، مسجد نبوی کا اینگل خوبصورت ہونا چاہیئے تاکہ فیس بک پر زیادہ پسند کئے جاؤ اور غارِ حرا میں سجدے والی تصویر کا مشورہ کس نے دیا تھا؟ جس کے لیے تم نے دو منٹ تک سجدے سے سر نھیں اٹھایا تھا۔ میرے چہرے کے رنگ بدلتے جارہے تھے اور وہ بولتا جارہا تھا، تمھارا دھیان تو اللہ کی طرف گیا ہی نھیں تھا ۔۔۔ اور۔۔۔

میں نے اس کو ہاتھ کے اشارے سے روکا اورچہک کر کہا، حج تو اللہ نے قبول کرنا ہے، تم کون ہو فیصلہ کرنے والے؟ اور اگر تم اتنی بڑی توپ چیز ہو تو اس وقت کہاں تھے جب وہ بہادر آدمی موٹروے پر بھاری بھر کم ٹرالر کو اکیلے روک کر نجانے کتنے لوگوں کی جان بچا رہا تھا، جس کی بریک نکارہ ہوچکی تھیں اور ڈرائیور نے چھلانگ لگادی تھی جو کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا تھا؟ میں نے بات کا رخ یکسر بدلتے ہوئے ایک اور وار کیا۔

یہ سچ ہے کہ جب انسانیت کا جذبہ انسان میں بیدار ہوجائے تو اس پر میرا اثر نہیں ہوتا مگر میں وہاں بھی موجود تھا، اس کی بیگم کے دماغ میں یاد کرو جو اسے منع کررہی تھی ارے وہ میں ہی تو تھا۔ اُس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ اس کا جواب سُن کر میں ہکا بکا رہ گیا اور محسوس کیا کہ میں اس کمبخت سے تو مناظرے میں کبھی نا جیت پاؤں گا۔ اُس مردود سے پیچھا چھڑانے سے پہلے آخری سوال پوچھا، اچھا ساری باتیں تو رہیں ایک طرف، پہلے یہ بتاؤ کہ تم نے آتے ہی ایک شرلی چھوڑی تھی کہ تم میرے سب سے اچھے دوست ہو، ارے نا معقول شیطان! یہ بے بنیاد بات کیوں کی تم نے آخر؟ تم سے ایسی بات کی توقع نہ تھی، تم نے تو شیطان برادری کا سر شرم سے جھکا دیا جو صدیوں سے بنی نوح انسان کو بھٹکانے کا نہایت اہم فریضہ بڑی مستعدی سے سر انجام دے رہے تھے، ان کی دانشمندی پر تو تم نے آج سوالیہ نشان ثبت کردیا، تمہیں دوست اور دشمن کا فرق بھی نہیں پتہ کیا؟

اُس نے غضبناک ہوکر جواب دینے کے بجائے بے حد اطمینان سے اُلٹا سوال پوچھ ڈالا، اچھا یہ بتاؤ کہ تم کس کو اپنا دوست مانتے ہو؟ میں نے سوچتے ہوئے جواب دیا کہ ایسا شخص جو وفادار ہو، میری بات کو سمجھ سکے، مشکل وقت میں میرا ساتھ دے اور میری خوبیوں کے ساتھ ساتھ خامیوں کو بھی قبول کرے، ایسے شخص کو میں اپنا بہترین دوست کہہ سکتا ہوں۔ میں نے جیسے ہی بات ختم کی اس نے ایک اور قہقہہ فضا میں بلند کیا اور ہنستے ہوئے جواب دیا، ارے نامعقول انسان میں ہی تو ہوں تمھارا سب سے اچھا دوست مجھ سے زیادہ وفادار کون ہوگا؟ میں تمھاری ہربات ہر خیال کو سمجھتا ہوں اور بہترین وقت پر نہایت مفید مشورہ بھی دیتا ہوں جس سے تمہیں خوشی ملتی ہے، میری وجہ سے تمھاری زندگی میں رنگ ہے۔

مثلاََ؟ میں نے حیران ہوکر پوچھا۔ اس نے فوراً جواب دیا، تمھیں سونے کی گھڑی کس نےدلوائی؟ وہ بوڑھا شخص جو اُسے وضو خانے میں بھول گیا تھا اور تم نے اٹھا لی اور جب وہ سب نمازیوں سے گھڑی کے متعلق پوچھ رہا تھا توخاموش رہنے کا مشورہ کس نے دیا تھا؟ جب دکاندار نے غلطی سے 200 کے بجائے 300 بقایا دیا تھا اور تم نے خاموشی سے رکھ لئے تھے، میری وجہ سے تمہیں 100 روپے کا فائدہ ہوا تھا اور وہ جو راتوں کو فون پر ۔۔۔۔

اِس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا میں مڑا اور یکلخت بھاگنا شروع کردیا۔ میں سر پٹ دوڑا چلا جا رہا تھا، مگر شیطان کے قہقہوں کی گونج میرے کانوں میں مسلسل پڑ رہی تھی، کیوں میاں کہاں بھاگ چلے ابھی تو بہت کچھ کہنا اور سننا تھا؟ جیسے جیسے میں بھاگ رہا تھا اس کی آواز بھی میرے ساتھ سفر کررہی تھی، میں تمھارا دوست ہوں، تمھاری بعض اچھائی کی خامیوں کے باوجود تمھارا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، آخر تک ساتھ نبھاؤں گا بے وفائی نہیں کروں گا ہاہاہاہاہاہاہا!

بس اتنے میں ہی آذان کی آواز گونجی اور میں مسجد کی طرف چل دیا، شیطان کی آوازیں خاموش ہوچکی تھیں، فضا میں سکون تھا، میں اطمینان سے چلتے ہوئے مسجد کے دروازے پر پہنچا، جیسے ہی دایاں پاؤں مسجد کی دہلیز کے اندر رکھنے لگا تو حضرت اقبال کا یہ مصرہ خاموشی کی آواز کو چیرتا ہوا میری سماعتوں میں گونجا،

تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

میرا سر خدا کی بارگاہ میں شرم سے جھک گیا، مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس کھائے جا رہا تھا، آنکھوں سے آنسو رواں تھے، دونوں ہاتھ اس رحیم کی بارگاہ میں اُٹھے ہوئے تھے، میں اللہ سے دوستی کا طلبگار تھا، اُس سے مانگ رہا تھا جس کے در سے فقیر بھی مالا مال ہو کر جاتے تھے، دل کے دروازے پر توبہ نے دستک دی، ندامت کے آنسوؤں نے ڈھارس بندھائی اور یقین کی آواز گونجی۔ ہاں ابھی دیر نہیں ہوئی تھی ۔۔۔ ہاں ابھی دیر نہیں ہوئی ۔۔۔۔

زباں سے کہہ بھی دیا لاالہ تو کیا حاصل

دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں