گرمیاں عروج پر تھیں اور برسات کے آنے میں ابھی کچھ دن باقی تھے۔گرمی کی شدت کی وجہ سے انسانوں اور حیوانوں کا برا حال تھا۔وہ اے سی کےکمرے سے باہر نکلی تو شدید گرمی نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔کچن جا کراس نے جلدی سے ناشتے کے برتن دھو ئے اور باہر نکلی ہی تھی کہ اچانک اسے بلی کے بچوں کی آواز سنائی دی،
وہ ایک دم ٹھٹک کر رک گئی۔
” یہ کہاں سےآگئے؟” اس نے خود سے کہا اور آوازکی سمت دیکھنے لگی۔
جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی ،اس نے یہاں ایک بلےکوآتے جاتے دیکھا تھا۔ شام کے وقت نہ جانے کہاں سے نمودار ہوتا،ایک موٹا تازہ بلہ، جو سفید اور براؤن رنگ کاتھا۔وہ صرف ایک چکر لگاتا اورکوڑادان کا برا حشر کر دیتا ۔ کھانے کی چیز ملتی،کھا کرچپ چاپ واپس چلا جاتا۔
مگر آج منظر ہی کچھ اور تھا۔۔۔
بلی کے بچوں کی آواز اب بھی آرہی تھی۔اس نے باہر کے کام سمیٹے اور اندر چلی گئی۔
ابھی اس کی شادی کو تیسرا مہینہ ہی چل رہاتھا اور اس گھر میں منتقل ہوئے انہیں صرف تین ہفتےہوئے تھے۔اس کا شوہر ایک کمپنی میں ملازمت کرتا تھا اور بڑی مشکل سے ان کو کرایہ کا یہ گھر ملا تھا۔وہ صبح ڈیوٹی پر چلا جاتا اور رات گئے واپس لوٹتا۔اس کی مصروفیت کے پیش نظر ایک نوکرانی کا بندوبست کر دیا گیا تھا لیکن وہ صرف صبح اور شام ایک ایک گھنٹے کے لیے آکر گھر کےکام نمٹا دیتی تھی
۔آج اس کی چھٹی تھی، اس لیے گھر کے تمام کام اسے خودہی نبٹانے تھے۔
وہ دوپہر کے کھانے کی تیاری کے لیےکچن جا رہی تھی ، تواچانک اس کی نظر صحن کی طرف پڑی۔وہاں بلی کے تین ننھے ننھے بچے
تھے اور ان کی ماں بلی بھی وہیں لیٹی ہوئی تھی ۔بچے اس کےاوپر چڑھتے،اترتے اور خوب اچھل کودکر رہے تھے۔یہ منظر اسےبہت اچھا لگا ۔وہ کچھ دیر تک وہیں کھڑی انہیں دیکھتی رہی، پھر اپنے کام میں لگ گئی۔ لیکن اب جب بھی وہ باہر نکلتی ،بے اختیار اس کی نظریں انہی پر جا ٹہرتیں اوردیکھتے ہی دیکھتے ایک ہفتہ گزر گیا۔
اس نے کہیں سے سنا تھا کہ بلی اپنے بچوں کے ساتھ گھر بدلتی رہتی ہے ۔کچھ دن کسی ایک جگہ ٹہرتی ہے، کچھ دن کسی دوسری جگہ،اور اس طرح سات گھروں میں اپنے بچوں کو لے جاتی ہے اور آخر میں اپنے ہی بچوں کو چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔اسے بھی یہی توقع تھی کہ یہ بلی چند دنوں بعد اپنے بچوں کو لے کر چلی جائے گی ۔
مگر یہ بلی جانے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
اسے کیا خبر تھی کہ اس خاموش سے صحن میں ہونے والا یہ معمولی سا واقعہ ،آنے والے دنوں میں اسے زندگی کا ایک ایسا سبق دینے
والا تھا جسے وہ کبھی نہیں بھولے گی۔
جاری ہے۔۔۔۔


0 Comments