اردو شاعری کا وہ سفر جو ایک قوم کا غم بن گیا
ساتویں صدی میں، دریائے فرات کے کنارے، تین دن کی پیاس اور ایک ایسے انکار نے تاریخِ انسانی کا رخ موڑ دیا جو شہادت پر تو راضی تھا مگر باطل کی بیعت پر نہیں، ۔ لیکن کربلا محض ایک واقعہ بنہیں، صدیوں بعد، ہزاروں میل دور، برِصغیر کی سرزمین پر اس نے ایک پوری زبان کی شاعری کو اپنا اسیر کر لیا۔ اردو شاعری کا سب سے گہرا، سب سے زرخیز زخم اگر کوئی ہے تو وہ کربلا ہے۔
اس تحریر میں ہم اُس سفر کی خاک چھانیں گے جو کربلا نے اردو شاعری میں طے کیا، ایک ایسا سفر جو “رسم” سے شروع ہو کر “استعارے” تک پہنچا، اور اِسی سفر نے ایک مخصوص مذہبی روایت کے غم کو ایک پوری قوم کا غم بنا دیا۔
دکن: وہ جنم جس کا سہرا کسی کے سر نہیں
عام تصور یہ ہے کہ اردو مرثیہ پیدائش لکھنؤ میں ہوئی ۔ یہ تاثرغلط ہے۔ اردو مرثیے کی ابتدائی صورتیں سولہویں صدی کے دکن میں جا ملتی ہیں، گولکنڈہ اور بیجاپور کی اُن سلطنتوں میں جہاں ایرانی تاجروں اور درباریوں کے اثر نے اس صنف کو پروان چڑھایا۔ دکن سے یہ صنف دلی پہنچی، جہاں مرزا رفیع سودا نے اسے “مسدس” (چھ مصرعوں کے بند) کی ہیئت میں باقاعدہ بنیاد دی۔ اور دلی سے یہ لکھنؤ کی گود میں جا گری، جہاں اسے عروج نصیب ہوا۔
کربلا کا غم کبھی کسی ایک فرقے یا مذہب کی ملکیت نہ تھا۔ دکن ہی میں پہلا ہندو مرثیہ گو شاعر سامنے آتا ہے، رام راؤ، تخلص “سیوا” جس نے سترہویں صدی کے اواخر میں “روضۃ الشہدا” کا دکنی منظوم ترجمہ کیا۔ یہ اس کہانی کا پہلا سرا ہے کہ یہ غم کس طرح فرقے کی حدیں پھلانگ گیا۔
جے سنگھ کا یہ شعر ملاحظہ ہو
“بھارت میں گر وہ آتے، بھگوان کہتے ہم،
ہر ہندو نام پوجا میں جپتا حسینؑ کا!” ”
مرثیہ غم کیسے بنتا ہے
کلاسیکی مرثیہ ایک فنی عمارت ہے۔ اس کے اجزا کم و بیش طے شدہ ہیں:
چہرہ (تمہید و حمد و نعت)
رخصت (میدان کی طرف الوداع)
آمد (میدان میں ورود)
رجز (اپنے نسب اور بہادری کا اعلان)
جنگ، شہادت، اور بین (نوحہ و گریہ)
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ڈھانچے کی بیشتر اینٹیں انیس سے پہلے کے لکھنوی شعرا خاص طور پر میر ضمیر نے رکھیں؛ انیس نے اس عمارت کو کمال تک پہنچایا۔
رخصت کے لمحے کو خود میر انیس نے یوں باندھا، جب حسینؑ اپنی ننھی بیٹی سکینہ سے رخصت ہوتے ہیں:
فرمایا شاہ نے ہاں سفر ناگزیر ہے
آؤ گلے لگو کہ یہ صحبت اخیر ہے
ان دو مصرعوں میں پوری کربلا کی تنہائی، بے بسی اور وقار سمٹ آیا ہے۔
دو سورج، ایک آسمان: انیس اور دبیر
لکھنؤ میں مرثیہ اپنے نقطۂ عروج کو پہنچا، اور یہ عروج دو ناموں سے جڑا ہے جنہیں الگ کرنا ممکن نہیں: میر ببر علی انیس اور مرزا سلامت علی دبیر۔ ان دونوں کی “رقابت” اردو ادب کی سب سے زیرِ بحث رقابت ہے۔ ان کے مداح دو گروہوں میں بٹ گئے — “انیسیہ” اور “دبیریہ” حالانکہ دونوں استاد آپس میں نہایت احترام سے پیش آتے رہے۔ بعد ازاں مولانا شبلی نعمانی کی “موازنۂ انیس و دبیر” (۱۹۰۷)
نے، جسے اردو کی پہلی باقاعدہ تنقید مانا جاتا ہے، اس موازنے کو ہمیشہ کے لیے ادب کا حصہ بنا دیا۔

دبیر کا قلم بھی کم معجزہ نہ تھا۔ ان کے ایک سلام کا یہ شعر دیکھیے، جس میں حُر کی قربانی ایک قطرے کے سمندر بن جانے کی صورت ڈھل جاتی ہے:
حُر فدا پیاسا جو شہ پر ہو گیا
اے سلامی! قطرہ تھا سمندر ہو گیا
سچائی یہ ہے کہ مرثیہ ان دونوں کے بغیر ادھورا ہے۔
اقبال: جہاں کربلا مرثیے سے باہر نکل آئی
یہاں اس کہانی کا سب سے بڑا موڑ آتا ہے۔ علامہ اقبال نے کوئی مرثیہ نہیں لکھا۔ انہوں نے کربلا کو نوحے اور گریے کے دائرے سے نکال کر فلسفے کے میدان میں لا کھڑا کیا۔ اپنی فارسی مثنوی “رموزِ بے خودی” (۱۹۱۸) میں، انتالیس اشعار پر مشتمل ایک باب میں، اقبال نے کربلا کو نئے سرے سے پڑھا: جو روایت اب تک اسے محض “نیکی اور بدی” کی جنگ کے طور پر دیکھتی آئی تھی، اقبال نے اسے ضمیر اور ارادے کی آزادی کی جنگ بنا دیا ، جبر کے خلاف عشق کی بغاوت۔ اُن کے ہاں حسینؑ “عشق” کا اور یزید “عقلِ دنیا پرست” کا استعارہ بن جاتے ہیں۔
فارسی میں وہ کہتے ہیں: “رمزِ قرآں از حسین آموختیم” یعنی قرآن کا راز ہم نے حسینؑ سے سیکھا۔ اور “بالِ جبریل” میں اردو کا وہ شعر جو ان کے اِسی نظریے کا نچوڑ ہے
حقیقتِ ابدی ہے مقامِ شبیری بدلتے رہتے ہیں اندازِ کوفی و شامی
یہی وہ پل ہے جہاں کربلا “رسم” سے “استعارہ” بنتی ہے اور اِسی استعارے کی بدولت وہ ایک فرقے کے غم سے نکل کر سب کا غم بن جاتی ہے۔
ایک ضروری تصحیح: وہ شعر جو اقبال کا نہیں
یہاں ہمیں ایک ایسی غلطی کی اصلاح کرنی ہے جو پورے انٹرنیٹ پر دہرائی جاتی ہے۔ اردو کا سب سے مشہور “کربلائی” شعر:
قتلِ حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
عام طور پر اقبال سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ غلط ہے۔ یہ شعر مولانا محمد علی جوہر کا ہے۔ اِسی طرح ایک اور مقبول مصرع، “انسان کو بیدار تو ہو لینے دو / ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین” ، بھی اکثر اقبال کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ یہ جوش ملیح آبادی کا ہے۔ ادب کے ساتھ دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ ہر شعر اپنے اصل خالق کے نام ہو۔
پُل اور دو شاخیں: جوش سے محسن اور افتخار تک
اقبال کے فلسفے اور آج کے شعرا کے درمیان ایک پُل کھڑا ہے: جوش ملیح آبادی، جنہوں نے مرثیے کی روایت کو انقلاب اور استعمار کے خلاف مزاحمت سے جوڑ دیا۔ جوش کے بعد یہ دھارا دو شاخوں میں بٹ جاتا ہے۔
ایک شاخ عقیدت اور عوام کی ہے ، محسن نقوی، جنہیں “شاعرِ اہلِ بیت” کہا جاتا ہے اور جن کا کلامِ کربلا آج بھی سب سے زیادہ پڑھا اور پکارا جاتا ہے۔ ان کا یہ شعر دیکھیے،:
سب سے اونچا ہے جو کٹ کر، وہ سر کس کا ہے؟ لُٹ کر آباد ہے جو اب تک، وہ گھر کس کا ہے؟
دوسری شاخ خالص ادبی ہے ، افتخار عارف۔ یہ بات معنی خیز ہے کہ افتخار عارف اُسی لکھنؤ میں پیدا ہوئے (۱۹۴۴) جو کبھی انیس و دبیر کا گہوارہ تھا، اور پھر ۱۹۶۵ میں پاکستان ہجرت کر گئے۔ گویا مرثیے کا جغرافیہ ایک دائرہ مکمل کرتا ہے: جو صنف لکھنؤ میں پروان چڑھی، اُس کا جدید ترین ادبی وارث بھی لکھنؤ ہی کا فرزند ہے۔ افتخار عارف کے ہاں کربلا نوحہ نہیں، ایک وجودی استعارہ ہے، ان کے مجموعے کا نام ہی “مہرِ دونیم” (دو ٹکڑے ہوا سورج) اِسی غم کی طرف ایک اشارہ ہے۔
حسین ؓتم نہیں رہے تمہارا گھر نہیں رہا
مگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا
کربلا جو گائی جاتی ہے
کربلا صرف لکھی نہیں گئی, وہ پڑھی اور گائی بھی گئی۔ مرثیہ خوانی کی دو صورتیں ہیں: “تحت اللفظ” یعنی بغیر دھن کے، لہجے، آنکھوں اور ہاتھوں کے اشاروں سے، جیسا کہ خود میر انیس پڑھا کرتے تھے , اور “سوز خوانی” , یعنی سُریلی آواز میں گا کر، جو مجالس میں مقبول ہوئی۔ نوحہ اور سلام اِسی زندہ روایت کی شاخیں ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جہاں تحریر آواز بنتی ہے، اور انفرادی غم ایک اجتماعی صدا۔
ایک قوم کا غم
تو یہ ہے کربلا کا سفر: شیعہ مجلس کی رسم سے اقبال کے ہمہ گیر فلسفے تک، جوش کی انقلابی للکار سے افتخار عارف کے وجودی استعارے تک، اور محسن نقوی کی عقیدت بھری پکار تک۔ ہر قدم پر اس غم کی ملکیت وسیع ہوتی گئی , یہاں تک کہ ہندو شعرا نے بھی اِسے اپنی زبان دی۔ یہی وہ راز ہے جس نے ایک اسلام کے واقعے کو “ایک قوم کا غم” بنا دیا۔ کربلا اردو شاعری میں زندہ ہے، اِس لیے کہ وہ کسی ایک کی نہیں ، سب کی ہے۔


