Jo Bhi Kuch Hai Muhabbat Ka Phelao Hai

شاعر: امجد اسلام امجد جو کچھ بھی ہے محبت کا پھیلاؤ ہے :   تیرے میرے ابد کا کنارہ ہے یہاستعارہ ہے یہروپ کا داؤ ہےپیارمزید پڑھیں

Farz karo

شاعر: امجد اسلام امجد فرض کرو:فرض کرو ہم تارے ہوتےایک دوجے کو دور دور سے دیکھ کر جلتے بجھتےاور پھر ایک دنشاخ فلک سے گرتےمزید پڑھیں

Judai Ki Paanchvi Salgirah

شاعر: امجد اسلام امجد جُدائی کی پانچویں سالگرہجی میں ہے آج کی شب اس کے لیۓ جاگ کے کیٹی جاۓوہ جو گنکھوں سے پرے اجنبیمزید پڑھیں