Blogs

دلوں کی نفرتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ انسان اپنےہوش و حواس کھو چکا ہے ۔ہر انسا ن یہی چاہتا ہے کہ جو میں کررہا ہوں وہ ٹھیک باقی سب غلط ہے ۔  
اس معاشرے کا غیر تعلیم یافتہ طبقہ اکثر و بیشتر تعلیم یافتہ طبقے اور اس کی تعلیم کو تربیت میں کمی ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔
سادہ الفاظ میں، فاشزم کو حکومتی ڈھانچے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جہاں ایک آمر کے پاس پورے ملک، ریاست یا علاقے کا مکمل کنٹرول ہوتا ہے۔
اگر ایک عام شکل و صورت کی عورت میری محبوب ہو سکتی ہے تووہ عظیم ہستی جس کو ماں کہتے ہیں جو ہماری پیدائش میں خدا کی سانجھےدار ہے ، وہ میری محبوب کیوں نہیں ہو سکتی
اس نے ایک بھرپور قہقہہ مارا اور اپنی ہنسی کو بمشکل روکتے ہوئے بولا، ارے کون سا حج بھئی؟ وہ حج تھا یا تم تصویریں کھینچنے گئے تھے؟ اور یہ تو بتاو کہ کیمرہ ساتھ لیجانے کا مشورہ کس نے دیا تھا؟
’’ہاں! میں طوائف ہوں مگر مجھے یہ نام تمہارے معاشرے نے بخشا ہے، وہ معاشرہ جس نے مجھے عورت ہونے کی سزا دی
وہ ساری بات سمجھ چکا تھا کہ یہ سب اُس کی وجہ سے ہو رہا تھا، کیوںکہ وہ غلطی سے زندہ رہ گیا تھا۔ اُس کے دل سے ایک آہ نکلی اور وہ فرش پر ڈھیر ہوگیا
مگر یہ پتہ کیسے چلے کہ حق پر کون تھا؟ کیونکہ کسی نے مجھ سے کہا ہے کہ جو جس کو سچا سمجھے گا اور حمایت کرے گا، قیامت والے دن اس کا حشر اس کے ساتھ ہی ہوگا
جانے انجانے میں کچھ ایسا ہی حادثہ ہمارے معاشرے کے ساتھ بھی رونما ہوا ہے۔ ٹیکنالوجی نے دنیا کے فاصلے تو گھٹا دیئے مگر دلوں کے فاصلے بڑھا دیئے ہیں